استاد ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر سید عابد علی بخاری

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ




استاد ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر
سید عابد علی بخاری
کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے ۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں ۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے ۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے ۔ اساتذہ اپنے آج کو قربان کر کے بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ دیگر معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں اگر اسلام میں استاد کے مقام کے بارے میں ذکر کیا جائے تو اسلام اساتذہ کی تکریم کا اس قدر قائل ہے کہ وہ انہیں روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے ۔کسی بھی انسان کے اصلی والدین اس کو آسمان سے زمین پر لے کر آتے ہیں لیکن استاد اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ طالب علم کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں اساتذہ بہت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں ۔ اسی لیے اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے بے شمار جگہوں پر اساتذہ کے احترام کا حکم دیا ۔

اسلامی تعلیم میں اساتذہ کی تکریم کا حکم جا بجا ملتا ہے ۔ یہاں تک کہ نبی رحمت کا ارشاد ہے کہ ” مجھے معلم بنا کر معبوث کیاگیا ہے “۔ اسلام میں علم کے حصول کے لیے کئی مقامات پر تاکید کی گئی ہے۔اساتذہ علم کے حصول کا برائے راست ذریعہ ہیں اس لیے ان کے احترام کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔ اساتذہ کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی اساتذہ ہوتے ہیں ۔ ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لیے اپنی زندگی صرف کرتے ہیںاور دوسرا وہ طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور اسلام بڑوں کے احترام کا حکم بھی دیتا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد نبوی آتا ہے کہ جو بڑوں کا احترام نہیں کرتا اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ۔

ویسے تو مسلمان ہونے کے ناطے اور ایک مسلمان طالب علم کی حیثیت سے ہمارے لیے ہر دن اساتذہ کی عزت اور احترام کا دن ہوتا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر دنیا بھر میں اساتذہ کے احترام اور ان سے محبت کے اظہار کے طور پر طالب علم پانچ اکتوبر کو ” عالمی یوم اساتذہ “ مناتے ہیں ۔ جو کہ ایک اچھی اور مثبت روایت ہے ۔

اس موقع پر اساتذہ کو گلدستوں کے تحفے پیش کیے جاتے ہیں اور طلبہ اپنے اساتذہ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر کہتے تھے کہ ” جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آقا بن گیا۔“ طلبہ اپنے اساتذہ سے کس قدر محبت کرتے ہیں کہ اس کی مثالیں تاریخ کے اواراق میں جا بجا ملتی ۔ ہارون الرشید کے بیٹوں کا واقعہ ہو یا علامہ اقبال کا واقعہ ۔جو طلبہ اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں ان کو عزت دیتے ہیں ۔ ان کی تکریم کا خیال رکھتے ہیں اور پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اپنے اساتذہ کی عزت اور وقار کا خیال رکھتے ہیں۔ہمیشہ کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومتی ہے ۔ امام ابو حنیفہ ؒ‘ امام محمد ؒ‘ امام احمد بن حنبل ؒ اور امام شافعی اسلامی تاریخ کے نمایاں لوگوں میں شامل ہیں۔ ان کی زندگی اساتذہ کے ساتھ خوب صورت تعلق سے عبارت تھی ۔ ان کی زندگی کے بارے میں تو جا بجا ہمیں ایسی مثالیں ملیں گی جو روشنی کے ایسے مینار کی مانند نظر آتی ہیں جن سے انسانیت آج بھی مستفید ہو رہی ہے ۔

اگر علم کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں غور کیا جائے تو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج کے جدید دور کی بنیاد علم پر ہے ۔ باشعور اور پڑھی لکھی قومیں عروج کی منازل طے کرتی ہیں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ساری ترقی کے پیچھے اساتذہ کا بڑا اہم کردار ہے ۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اساتذہ اپنے طلبہ کو بھول جاتے ہیں لیکن یہ کبھی ممکن نہیں کہ طلبہ اپنے اساتذہ کو یاد نہ رکھیں ۔ طلبہ اپنے اساتذہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود اچھے طالب علم ہمیشہ اساتذہ کو یاد رہتے ہیں۔ ایک اچھے طالب علم کی نشانی ہے کہ وہ سکول ‘ کالج اور یونیورسٹی کے اندر پڑھائی کے دوران اپنے اساتذہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھے اور جب وہ ان تعلیمی اداروں کو چھوڑ دے تب بھی اپنے اساتذہ کو نہ بھولے ۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں استاد کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج اساتذہ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے سن انیس سو چورانوے میں یہ تقریب رائج کی تھی۔عالمی یوم اساتذہ ان چند عالمی دنوں میں سے ایک ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں۔ چند ممالک میں اس دن سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد اساتذہ کی اقوام عالم کے لیے خدمات کا اعتراف ہے۔ یہ ایک حیران کن بات ہے کہ مختلف ممالک میں یوم اساتذہ مختلف دن کو منایا جاتا ہے مگر تمام ممالک میں ایک بات مشترک ہے کہ اساتذہ کا دن انتہائی خلوص، محبت اور عقیدت سے منایا جاتا ہے اور اس عزم کی تائید کی جاتی ہے کہ آنے والی نسل کی پرورش کے لیے بھی اساتذہ کے کلیدی کردار کی ضرورت ہے۔ تمام ممالک میں اساتذہ کے دن کو خصوصی سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کر کے منایا جاتا ہے، تقاریر اور مضمون نویسی کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اساتذہ کی خدمت میں پھولوں کے ساتھ ساتھ مختلف بیش قیمت تحائف بھی دیئے جاتے ہیں۔

پاکستان میں بھی اساتذہ کا عالم دن 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں یوم اساتذہ 5 ستمبر کو ڈاکٹر سروی پالی رادھاکرشن (Sarvepalli Radhakrishnan) کی سالگرہ کے دن کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشن بھارت کے دوسرے صدر بھی تھے۔ چین میں یوم اساتذہ منانے کا آغاز نیشنل سنٹرل یونیورسٹی سے 1931ءسے ہوا۔ اس کے ایک سال بعد 1932ءمیں چین کی سنٹرل حکومت نےاس دن کو منانے کا آغاز کیا۔ 1939ءسے چین میں اساتذہ کے دن کو 27 اگست کو کنفیوژس کی ولادت کے دن کی مناسبت سے منایا جانے لگا۔ 1951ءمیں حکومت چین کی جانب سے اساتذہ کا دن منانے کا قانون ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1985ءمیں چین کی قیادت نے اساتذہ کے دن کو منانے کے لیے 10 ستمبر کا دن مختص کیا۔ مگر چین میں اب بھی لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ 27 اگست کو اساتذہ کا دن ”کنفیوژس کی ولادت“ کے دن کی مناسبت سے منائیں۔ روس میں 1965ءسے 1994ءکے درمیان اساتذہ کا دن اکتوبر کی پہلی اتوار کو منایا جاتا تھا۔ 1994ءسے یہ دن عالمی یوم اساتذہ کی مناسبت سے 5 اکتوبر کو منایا جانے لگا، جبکہ امریکہ میں اساتذہ کے دن کے موقع پر غیر سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ امریکہ میں یہ دن مئی کے پہلے منگل کو منایا جاتا ہے اور اساتذہ کے دن کی مناسبت سے تقاریب پورا ہفتہ جاری رہتی ہیں۔ تھائی لینڈ میں بھی اساتذہ کا دن

حکومت کی طرف سے ایک قرارداد پاس ہونے کے نتیجے میں ہر سال 16 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ حکومت نے یہ قرار داد 21 نومبر 1956ءکو پاس کی اور تھائی لینڈ میں پہلا یوم استاد 1957ءمیں منایا گیا۔ تھائی لینڈ میں اس دن سکولوں میں عام تعطیل دی جاتی ہے۔ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک نے اساتذہ کی خدمات کے اعتراف میں 24 نومبر کو اساتذہ کے دن کے طور پر منانے کا اعادہ کیا، جو آج تک جاری ہے۔ ملیشیا میں 16 مئی کو اساتذہ کے دن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس دن کو ملیشیا میں ”ہاری گرو“(Hari Guru) کہا جاتا ہے۔ایران میں بھی استاد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ”روز معلم“ منایا جاتا ہے۔ روز معلم استاد مرتضیٰ مطہری کی شہادت کی مناسبت سے 1980ءسے ہر سال 2 مئی کو منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان میں5اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ منایا جاتا ہے ۔ یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے جب طالب علم اپنے اساتذہ کو یاد کرتے ہیں ۔ ان کو پھولوں کے تحائف بھیجتے ہیں ۔ اس موقع پر تعلیمی اداروں میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ ایک اچھے طالب علم اور ایک بہترین مسلمان کی حیثیت سے آپ بھی اس موقع پر اپنے اساتذہ کو ضرور یاد رکھیے گا ۔ ان عظیم لوگوں کو جنہوں نے آپ کی زندگی سنوارنے اور اس میں خوب صورتیوں کے رنگ بھرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
اسلامی تعلیم میں اساتذہ کی تکریم کا حکم جا بجا ملتا ہے ۔ یہاں تک کہ نبی رحمت کا ارشاد ہے کہ ” مجھے معلم بنا کر معبوث کیاگیا ہے “۔ اسلام میں علم کے حصول کے لیے کئی مقامات پر تاکید کی گئی ہے۔اساتذہ علم کے حصول کا برائے راست ذریعہ ہیں اس لیے ان کے احترام کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔ اساتذہ کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی اساتذہ ہوتے ہیں ۔ ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لیے اپنی زندگی صرف کرتے ہیںاور دوسرا وہ طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور اسلام بڑوں کے احترام کا حکم بھی دیتا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد نبوی آتا ہے کہ جو بڑوں کا احترام نہیں کرتا اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ۔
ویسے تو مسلمان ہونے کے ناطے اور ایک مسلمان طالب علم کی حیثیت سے ہمارے لیے ہر دن اساتذہ کی عزت اور احترام کا دن ہوتا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر دنیا بھر میں اساتذہ کے احترام اور ان سے محبت کے اظہار کے طور پر طالب علم پانچ اکتوبر کو ” عالمی یوم اساتذہ “ مناتے ہیں ۔ جو کہ ایک اچھی اور مثبت روایت ہے ۔
اس موقع پر اساتذہ کو گلدستوں کے تحفے پیش کیے جاتے ہیں اور طلبہ اپنے اساتذہ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر کہتے تھے کہ ” جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آقا بن گیا۔“ طلبہ اپنے اساتذہ سے کس قدر محبت کرتے ہیں کہ اس کی مثالیں تاریخ کے اواراق میں جا بجا ملتی ۔ ہارون الرشید کے بیٹوں کا واقعہ ہو یا علامہ اقبال کا واقعہ ۔جو طلبہ اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں ان کو عزت دیتے ہیں ۔ ان کی تکریم کا خیال رکھتے ہیں اور پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اپنے اساتذہ کی عزت اور وقار کا خیال رکھتے ہیں۔ہمیشہ کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومتی ہے ۔ امام ابو حنیفہ ؒ‘ امام محمد ؒ‘ امام احمد بن حنبل ؒ اور امام شافعی اسلامی تاریخ کے نمایاں لوگوں میں شامل ہیں۔ ان کی زندگی اساتذہ کے ساتھ خوب صورت تعلق سے عبارت تھی ۔ ان کی زندگی کے بارے میں تو جا بجا ہمیں ایسی مثالیں ملیں گی جو روشنی کے ایسے مینار کی مانند نظر آتی ہیں جن سے انسانیت آج بھی مستفید ہو رہی ہے ۔
اگر علم کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں غور کیا جائے تو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج کے جدید دور کی بنیاد علم پر ہے ۔ باشعور اور پڑھی لکھی قومیں عروج کی منازل طے کرتی ہیں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ساری ترقی کے پیچھے اساتذہ کا بڑا اہم کردار ہے ۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اساتذہ اپنے طلبہ کو بھول جاتے ہیں لیکن یہ کبھی ممکن نہیں کہ طلبہ اپنے اساتذہ کو یاد نہ رکھیں ۔ طلبہ اپنے اساتذہ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود اچھے طالب علم ہمیشہ اساتذہ کو یاد رہتے ہیں۔ ایک اچھے طالب علم کی نشانی ہے کہ وہ سکول ‘ کالج اور یونیورسٹی کے اندر پڑھائی کے دوران اپنے اساتذہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھے اور جب وہ ان تعلیمی اداروں کو چھوڑ دے تب بھی اپنے اساتذہ کو نہ بھولے ۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں استاد کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج اساتذہ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے سن انیس سو چورانوے میں یہ تقریب رائج کی تھی۔عالمی یوم اساتذہ ان چند عالمی دنوں میں سے ایک ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں۔ چند ممالک میں اس دن سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد اساتذہ کی اقوام عالم کے لیے خدمات کا اعتراف ہے۔ یہ ایک حیران کن بات ہے کہ مختلف ممالک میں یوم اساتذہ مختلف دن کو منایا جاتا ہے مگر تمام ممالک میں ایک بات مشترک ہے کہ اساتذہ کا دن انتہائی خلوص، محبت اور عقیدت سے منایا جاتا ہے اور اس عزم کی تائید کی جاتی ہے کہ آنے والی نسل کی پرورش کے لیے بھی اساتذہ کے کلیدی کردار کی ضرورت ہے۔ تمام ممالک میں اساتذہ کے دن کو خصوصی سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کر کے منایا جاتا ہے، تقاریر اور مضمون نویسی کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اساتذہ کی خدمت میں پھولوں کے ساتھ ساتھ مختلف بیش قیمت تحائف بھی دیئے جاتے ہیں۔
پاکستان میں بھی اساتذہ کا عالم دن 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں یوم اساتذہ 5 ستمبر کو ڈاکٹر سروی پالی رادھاکرشن (Sarvepalli Radhakrishnan) کی سالگرہ کے دن کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشن بھارت کے دوسرے صدر بھی تھے۔ چین میں یوم اساتذہ منانے کا آغاز نیشنل سنٹرل یونیورسٹی سے 1931ءسے ہوا۔ اس کے ایک سال بعد 1932ءمیں چین کی سنٹرل حکومت نےاس دن کو منانے کا آغاز کیا۔ 1939ءسے چین میں اساتذہ کے دن کو 27 اگست کو کنفیوژس کی ولادت کے دن کی مناسبت سے منایا جانے لگا۔ 1951ءمیں حکومت چین کی جانب سے اساتذہ کا دن منانے کا قانون ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1985ءمیں چین کی قیادت نے اساتذہ کے دن کو منانے کے لیے 10 ستمبر کا دن مختص کیا۔ مگر چین میں اب بھی لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ 27 اگست کو اساتذہ کا دن ”کنفیوژس کی ولادت“ کے دن کی مناسبت سے منائیں۔ روس میں 1965ءسے 1994ءکے درمیان اساتذہ کا دن اکتوبر کی پہلی اتوار کو منایا جاتا تھا۔ 1994ءسے یہ دن عالمی یوم اساتذہ کی مناسبت سے 5 اکتوبر کو منایا جانے لگا، جبکہ امریکہ میں اساتذہ کے دن کے موقع پر غیر سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ امریکہ میں یہ دن مئی کے پہلے منگل کو منایا جاتا ہے اور اساتذہ کے دن کی مناسبت سے تقاریب پورا ہفتہ جاری رہتی ہیں۔ تھائی لینڈ میں بھی اساتذہ کا دن
حکومت کی طرف سے ایک قرارداد پاس ہونے کے نتیجے میں ہر سال 16 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ حکومت نے یہ قرار داد 21 نومبر 1956ءکو پاس کی اور تھائی لینڈ میں پہلا یوم استاد 1957ءمیں منایا گیا۔ تھائی لینڈ میں اس دن سکولوں میں عام تعطیل دی جاتی ہے۔ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک نے اساتذہ کی خدمات کے اعتراف میں 24 نومبر کو اساتذہ کے دن کے طور پر منانے کا اعادہ کیا، جو آج تک جاری ہے۔ ملیشیا میں 16 مئی کو اساتذہ کے دن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس دن کو ملیشیا میں ”ہاری گرو“(Hari Guru) کہا جاتا ہے۔ایران میں بھی استاد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ”روز معلم“ منایا جاتا ہے۔ روز معلم استاد مرتضیٰ مطہری کی شہادت کی مناسبت سے 1980ءسے ہر سال 2 مئی کو منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان میں5اکتوبر کو عالمی یوم اساتذہ منایا جاتا ہے ۔ یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے جب طالب علم اپنے اساتذہ کو یاد کرتے ہیں ۔ ان کو پھولوں کے تحائف بھیجتے ہیں ۔ اس موقع پر تعلیمی اداروں میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ ایک اچھے طالب علم اور ایک بہترین مسلمان کی حیثیت سے آپ بھی اس موقع پر اپنے اساتذہ کو ضرور یاد رکھیے گا ۔ ان عظیم لوگوں کو جنہوں نے آپ کی زندگی سنوارنے اور اس میں خوب صورتیوں کے رنگ بھرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
 
 


Enhanced by Zemanta

Comment on this post